کلبرگی :8؍فروری(ایس اؤ نیوز) ادب، شخصی آزادی اور دستور کو خطرہ لاحق ہے ، چھوت چھات آج بھی زندہ ہے، ظلم و استحصال کے متعلق بات کریں تو ملک سے غداری کا دھبہ چسپاں کرنے والے حالات پیدا ہوگئے ہیں،دلتوں کا مذہب تبدیل کرنا ملک سے غداری نہیں ہے ، ریزرویشن پر غیر مستحقین کا قبضہ ہے۔ ان خیالات کا اظہار گلبرگی میں منعقدہ سہ روزہ کنڑا ادبی اجلاس کے دوسرے دن ’دلت مزاحمت: بنیادیات ‘ کے موضوع پر منعقدہ مذاکرے میں ماہرین اور مقالہ نگاروں نے کیا۔
مذاکرے کی صدارت کرتے ہوئے گلبرگہ یونیورسٹی شعبہ کنڑا کے ڈاکٹر ایچ ٹی پوتے نے کہاکہ چھوت چھات آج بھی زندہ ہے ، اسی وجہ سے دلت طبقہ بودھ ، عیسائی اور اسلام مذاہب قبول کررہاہے۔ انہوں نے کہا کہ ایسا کرنا ملک غداری نہیں ہے ، بلکہ وہ ان کی اپنی آزادی ہے اور دستوری حق ہے۔ ڈاکٹر پوتے نے کہاکہ ملک میں چونکہ ذات پات کا نظام تھا جس کی بنیاد پر دلتوں کو یہاں تعلیمی سہولیات حاصل نہیں تھیں، لارڈ میکاولے جب بھارت آیاتو دلتوں کو بھی تعلیم حاصل کرنا ممکن ہوا۔ انہوں نے کہاکہ اگر دلت ادب نہیں ہوتا تو کنڑا ادب انسانیت سے محروم رہتا۔
ملک غداری کا دھبہ : ڈاکٹر سبراؤ نے اپنا مقالہ پیش کرتے ہوئے کہاکہ آج استحصال کے متعلق بات کریں تو ملک غداری کا ٹھپہ جڑدئیے جانے والے حالات ہیں۔ دلتوں کے خلاف ظلم جاری ہے، آدی باسیوں کا جنسی استحصال ہوتاہے تو میڈیا خبر نہیں لیتا، ان حالات میں ہماری جدوجہد کے لئے دستور ہی شاہراہ بن جاتاہے، لیکن کیا کریں دستور کو ہی تبدیل کرنے کی باتیں سنی جارہی ہیں۔ انہوں نے کہاکہ آزادی کے 70برس بعد بھی ہمارا ظلم اور استحصال کے متعلق باتیں کرنا شرمناک ہے۔ کئی ایک تنظیموں کے ذریعے استحصال میں کمی ضرور ہوئی ہے مگر ختم نہیں ہواہے۔ انہوں نے کہاکہ دلتوں سے ہی جمہوریت کے تحفظ ہوسکتا ہے۔
دستور کی منشا خطرے میں :کرناٹکا دلت سنگھرش سمیتی کے سنچالک ڈاکٹر ڈی جی ساگر نے تحریکات پر اپنا مقالہ پیش کرتےہوئے کہاکہ حد سے زائد ظلم ہوتاہے تو تحریکات جنم لیتی ہیں، دلت تحریکات کسی دھرم کے خلاف نہیں ہیں، دلت تحریکات کو صرف دلتو ں نے ہی نہیں بلکہ اعلیٰ ذات والوں نے بھی قوت دی ہے۔ انہوں نے کہاکہ برسراقتدار حکومت دستور کے منشاکو نقصان پہنچانے کی کوشش کررہی ہے جس کو ہم کسی حال میں برداشت نہیں کریں گے ،آگے کہا کہ اس کے خلاف ہماری جدوجہد جاری رہے گی۔